ممبئی، 23/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ٹھاکرے گروپ کی جانب سے دسہرہ ریلی کے تعلق اتوار کو نیا ٹیزر جاری کیا گیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹھاکرے گروپ نے شندے گروپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔ اس ٹیزر میں شندے گروپ کو ایک بار پھر بالواسطہ طور پر’ `غدار‘ کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ’مرد بکتا نہیں ، مرد غدار نہیں ہوتا‘‘ کا پیغام بھی دیا گیا ہے۔
’کچھ بھگوڑے ہوتے ہیں .. وہ جو دم پکڑ کر بیٹھتے ہیں .. جو خود غرضی کیلئے ایمان بیچتے ہیں .. جو دشمنوں سے ہاتھ ملاتے ہیں .. وہ جو برتنوں پر تھوکتے ہیں .. وہ جو کھوکھے کیلئے بکتے ہیں .. وہ جو خیانت کرتے ہیں . رات کے اندھیرے میں غداری کرکےنقب زنی کرتے ہیں .. لیکن مرد کوبیچانہیں جاسکتا.. مرد غداری نہیں کرتے.. مردوں کیلئے ایک جگہ... شیو تیرتھ دادر.. ایک نیتا، ایک سوچ اور ایک میدان.. دسہرہ کا اجتماع.. مردوں کا اجتماع...‘‘
دریں اثناء شیوسینا (ادھوگروپ) کےلیڈر سنجے راؤت نے اتوار کو کہا کہ ممبئی کے شیواجی پارک میں منعقد ہونے والی دسہرہ ریلی ایک روایت رہی ہے اور۵؍ دہائیوں سے زیادہ کی میراث ہے۔ انہوں دعویٰ کیا کہ یہ صرف ٹھاکرے ہیں جو اس مقام سے مہاراشٹر اور ملک کیلئے ویژن اور روڈ میپ دیتے ہیں۔
نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ دسہرہ ریلی میں سینا (ادھوگروپ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی تقریر۲۰۲۴ء میں ریاست اور قومی سطح پر ’تبدیلی کی شروعات‘ ہوگی۔انہوں نے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی دسہرہ ریلی کو ’ڈپلیکیٹ (نقل)‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ صرف ’’بی جے پی میں ڈپلیکیٹ لوگوں ‘‘ کیلئے قابل قبول ہے۔واضح رہے کہ شیوسینا سربراہ اادھو ٹھاکرے منگل کو دادر کے مشہور شیواجی پارک میں دسہرہ ریلی سے خطاب کریں گےجبکہ وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کی ریلی کا انعقاد جنوبی ممبئی کے آزاد میدان میں ہوگا۔یہ بھی یاد رہے کہ لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی کے انتخابات اگلے سال ہونے والے ہیں۔
سنجے راؤت نے کہا کہ ’’ ٹھاکرے کی دسہرہ ریلی ایک روایت رہی ہے اور ۵؍دہائیوں سے زیادہ کی میراث ہے۔ پہلے یہ (سینا کے بانی) بالا صاحب تھےاور بعد میں ادھو جی۔‘‘ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی لیڈر یہ جاننے کے خواہشمند ہیں کہ ادھو ٹھاکرے اپنی تقریر میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منشیات کیس کا ملزم للت پاٹل کبھی بھی شیو سینا کا عہدیدار نہیں رہا۔
واضح رہے کہ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے جمعہ کو کہاتھا کہ للت پاٹل ٹھاکرے کے تحت غیر منقسم شیو سینا کا ناسک کا سربراہ تھا اور۲۰۲۰ءمیں جب مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت تھی اس کے بعد پولیس نے اس سے کبھی پوچھ گچھ نہیں کی۔
سنجے راؤت کا کہنا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرنویس کا محکمہ داخلہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ ایک ’ناکام وزیر داخلہ‘ ہیں ۔انہوں نے الزام لگایا کہ ناسک میں ڈرگ مافیا کو ریاستی حکومت کا آشیروادد حاصل ہے۔ اگر وزیر دادا بھسے کہتے ہیں کہ ادھو ٹھاکرے نے للت پاٹل کو `’شیو بندھن ‘ باندھا تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسے (پاٹل) ادھو جی کے پاس کس نے لایا اور کہا کہ وہ میرے کارکن ہیں ۔ فرنویس کو اپنی انٹیلی جنس (نیٹ ورک) کو مضبوط کرنا چاہئے۔